
بُھٹو کےمتعلق ناروے میں تھیٹر ڈرامہ
ذوالفقار علی بھٹو(سابق وزیراعظم پاکستان)
ٹونی عثمان پاکستانی نژاد نارویجین اداکار، ڈائریکٹر اور ڈرامہ نویس ہیں، جو اپنے تخلیقی کام کے ذریعے اردو ادب، پاکستانی ثقافت اور تاریخ کو نارویجین تھیٹر میں گزشتہ تقریباً چار دہایئوں سے پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف منٹو کی کہانیوں کو نارویجین زبان میں ڈھالا بلکہ کئی دیگر موضوعات پر بھی تھیٹر ڈرامے تخلیق کیے، جن میں تاریخی اور سماجی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اب وہ پاکستان کے سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کے متعلق ایک تھیٹر ڈرامہ پیش کر نے کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں۔ بُھٹو کے رول کے لئے اداکار کی تلاش کے سلسلے میں بُھٹو کی برسی 4 اپریل کو وہ آڈیشن کر رہے ہیں۔ ڈرامے کا پریمئیر اس سال 9 اکتوبر کو ناروے کے دارلحکومت اوسلو میں” وولڈس لوکا سین” پر ہوگا۔
ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاست کا ایک ایسا کردار ہیں، جنہیں کچھ لوگ عوامی لیڈر مانتے ہیں تو کچھ متنازع سیاستدان۔ ان کی زندگی، اقتدار، فیصلے اور المناک انجام پر کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں، لیکن انہیں نارویجین تھیٹر میں پیش کرنا ایک منفرد اور انوکھا تجربہ ہوگا۔ اردو ٹریبون نے اپنے قارئین کے لیے ٹونی عثمان سے ان کے اس نئے ڈرامے، ان کی تخلیقی سوچ اور بھٹو کی شخصیت کے بارے مختصر گفتگو کی ہے۔
ٹائٹل خاکہ، مارٹا دوبژنسکا
سوال: بھٹو کی زندگی پر ڈرامہ بنانے کا خیال کیسے آیا؟ کیا کوئی خاص وجہ تھی کہ آپ نے انہیں بطور موضوع چُنا؟
ٹونی عثمان: میں سمجھتا ہوں کہ بُھٹو کی شخصیت میں وہ سب ملتا ہے جو ڈرامے کے ایک دلچسپ کردار کے لئے اہم لوازمات سمجھے جاتے ہیں۔ اُن کی بدن بولی میں انوکھی توانائی جھلکتی تھی۔ وہ مُنہ میں چاندی کا چمچ لے کر ایک جاگیردار کے گھر پیدا ہوئے مگر اُن کا دل آخری سانسوں تک غریبوں اور مزدوروں کے لئے دھڑکتا رہا۔ اُنہوں نے اپنے طبقے کے بالکل برعکس عوام کے مسائل حل کرنے کی بات کی۔ ایسے تضادات ڈرامہ پیدا کرتے ہیں۔ پھر اُنہوں نے موت کی کال کوٹھری سے بچنے کے لئے کوئی ڈیل نہ کی اور بڑی بہادری سے موت کو چُوما۔ چاہے ہم اُنہیں پسند کریں یا نہ کریں لیکن وہ آج بھی پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ جس کی شاید وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود پاکستان کے سب سے باصلاحیت، ذہین اور قابل سیاست دان تھے۔ میں بہت عرصہ سے بُھٹو کے متعلق ڈرامہ بنانا چاہ رہا تھا مگر مختلف وجوہات کے باعث اب سے پہلے مُمکن نہ ہوسکا۔
سوال: آخر بُھٹو پر مبنی ڈرامہ ناروے میں اور نارویجین زبان میں کیوں؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ناروے میں بھی لوگ پاکستانی سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
ٹونی عثمان: بُھٹو کی کہانی کے پیچھے بہت سے انسانی اور آفاقی پہلو ہیں۔ اُن کے عدالتی قتل کی ایک عالمی اہمیت ہے۔ اس لئے کہ ساری دُنیا میں ایسی سیاسی آوازوں کو دبانے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے جاتے ہیں جو طاقتور حلقوں کو پسند نہیں ہوتیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق55 ممالک میں سزائے موت دی جاتی ہے۔ اکثر ممالک میں غیر منصفانہ ٹرائلز کے بعد ناپسندیدہ شخصیات کو موت کی سزا سنادی جاتی ہے۔
سوال: آپ کے خیال میں ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی میں ایسا کیا ہے جو آج بھی ریلیونٹ ہے؟
ٹونی عثمان: بُھٹو کے عدالتی قتل کے 46 سال بعد بھی سوالات تو وہی ہیں۔ عدالتیں انصاف پر مبنی کیوں فیصلے نہیں کر پاتیں، کیوں سول وزیرِ اعظم برداشت نہیں ہوتا اور نظام کے مراتب وار ڈھانچے میں سب سے اوپر پارلیمنٹ کو ہونا چاہئے یا اسٹیبلشمنٹ کو؟ اُس وقت بھی ملک کی بقاء کا دارومدار فوج کے سپہ سالار کو سمجھاجاتا تھا آج بھی ویسا ہی ہے۔ آج بھی عدالتوں کی طرف سے فیصلے سُنائے جانے سے پہلے ہی لوگوں کو معلوم ہوتا ہےکہ فیصلہ کیا ہو گا۔ تب بھی جسٹس مولوی مُشتاق کی بُھٹو سے نفرت اور جسٹس انوار الحق کی جنرل ضیاء سے قُربت کی وجہ سے لوگوں کو پہلے ہی معلوم تھا فیصلہ بُھٹو کے خلاف ہو گا۔ جنرل ضیاء کے مارشل لا دور میں آزادیِ صحافت کا گلا گھونٹنے کے لئے صحافیوں کو ننگا کرکے کوڑے مارے جاتے تھے جبکہ آج کے دور میں ٹی وی اینکرز کو آف ایئر کر دیا جاتا ہے اور بعض دفعہ ناپسندیدہ صحافیوں کو غائب کر دیا جاتا ہے۔ جنرل ضیاء نے تقریباً 10 ہزار ایسے افراد کی فہرست بنائی ہوئی تھی جنہیں وہ غدار سمجھتے تھے۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق سیاسی اتحاد، تحریک برائے بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) اور پیپلز پارٹی سے تھا۔ آج بھی ناپسندیدہ سیاسی لوگوں کو مُلک کے دُشمن اور غدار کہاجاتا ہے۔ بقول حبیب جالب
ہر دہڑکن پر خوف کے پہرے
ہر آنسو پر پابندی
ٹونی عثمان
پاکستان کا ہائبرڈ نظام یہ تقاضہ کرتا ہے کہ بُھٹو کو دوبارہ دریافت کیا جائے تاکہ بُھٹو کی شخصیت اور پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نئے سرے سے ایک متوازن بحث شروع کی جاسکے۔ اگر ہم بین القوامی تَناظُر میں دیکھیں تو سنہ 1974 میں اُس وقت کے امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے آج کے صدر ٹرمپ کے جارحانہ انداز میں بُھٹو کو دھمکی دی کہ اگر وہ ایٹمی پروگرام منسوخ نہیں کریں گے تو اُنہیں عبرت ناک مثال بنادیا جائے گا۔ آج بھی اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں ویٹو کے ذریعے جمہوریت کا مزاق اُڑایا جاتا ہے، تب بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔ بُھٹو اپنے وقت سے بہت آگے تھے۔ انہوں نے 1974 میں امریکہ کی مرضی کے خلاف اور سعودی عرب اور لیبیا کے تعاون سے اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کرکے اسلامی ممالک میں اتحاد کی ضرورت کو واضح کیا۔ وہ بہت پہلے یہ بھانپ چُکے تھے کہ امریکہ سے غیر فطری دوستی ٹھیک نہیں لہٰزا اُن کا جھکاؤ مشرق میں چین اور سوویت یونین، اور مغرب میں فرانس کی طرف تھا۔ بُھٹو کے دور میں ثقافتی نوعیت کے اہم اقدامات بھی سامنے آئے۔ تاریخ میں پہلی بار ملک کی ثقافتی پالیسی لکھنے کی پیش رفت کی- اس ضمن میں ایک سرکاری ادارے نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این اے ایف ڈی ای سی) کا قیام اور لاہور میں الحمراء کا قیام اہم پیش رفت تھیں۔ مُجھے اُمید ہے کہ بُھٹو کے متعلق یہ ڈرامہ ناروے میں رہنے والی پاکستانی کمیونٹی کے لئے بھی خاص دلچسپ ہو گا کیوں کہ بُھٹو کے ساتھ آپ جتنا چاہیں سیاسی اختلاف کریں مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ پاکستانی سیاست کی شناخت ہیں۔
سوال: بھٹو کی شخصیت کافی متنازع بھی رہی ہے، کیا آپ کے ڈرامے میں ان کے مثبت اور منفی پہلو دونوں پیش کیے جائیں گے؟
ٹونی عثمان: یہ متنازع پن ڈرامہ کے لئے مَوزُوں ہے۔ اس ڈرامہ میں بُھٹو کی اچھائیوں اور اُنکی کمزوریوں کو پیش کرنے کے ساتھ ان کی شخصیت اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا جائے گا تاکہ سوچ کا ایک ایسا عمل شروع ہو جس سے بُھٹو کو نئے سرے سے دریافت کرنے میں مدد مل سکے۔
سوال: آپ نے سکرپٹ لکھنے اور بھٹو کے کردار کو تخلیق کرنے کے لیے کس طرح کی ریسرچ کی؟
ٹونی عثمان: میں نے بُھٹو کی تصنیفات ، اُن کی تقاریر اور انٹرویوز پڑھے، اُن کے متعلق لکھی گئی مختلف کتابیں پڑھیں۔ اس کے علاوہ بہت سے صحافیوں، ادیبوں، شاعروں اور سیاسی کارکنوں سے بات چیت کی اور تین افراد پر مُشتمل ایک کمیٹی بھی میری معاونت کرتی ہے۔ اس کمیٹی کے اراکین میں “کاروان” کے مُدیر سید مُجاھد علی، ناروے کے سرکاری نشریاتی ادارے (این آر کے) کے صحافی عطا انصاری اور شاعر آفتاب وڑائچ ہیں۔ میں نے لاڑکانہ اور گڑھی خدابخش کے دورے بھی کئے۔ اس کے علاوہ گذشتہ سال میں نے ایک ابتدائی پروجیکٹ کیا جس کے تحت ایک تین روزہ ورکشاپ کی جہاں سکرپٹ کے کُچھ حصوں کو مختلف زاویوں سے پرکھا۔
سوال: ڈرامے کی کہانی میں بھٹو کے عدالتی مقدمے اور پھانسی کو بھی دکھایا گیا ہے؟
ٹونی عثمان: یہ ڈرامہ شروع راولپنڈی جیل کی کال کوٹھری سے ہو گا اور پھر فلیش بیک سے بُھٹو کی ساری ذندگی کا احاطہ کیا جائے گا اور اس میں عدالتی ٹرائل پر بھی بات ہوگی۔
سوال: مستقبل میں پاکستان یا دوسرے ممالک میں بھی یہ ڈرامہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
ٹونی عثمان: میرا خیال ہے کہ اگر اسے انگریزی میں برطانیہ میں اسٹیج کیا جائے تو ایک دلچسپ تجربہ ہو سکتا ہے اور اگر اسے اُردو میں پاکستان کے آڈینس کے لئے پیش کیا جائے تو تھیٹر اور سیاست، دونوں کے متعلق خیالات کا ایک اہم اور صحت مند تبادلہ شروع کیا جاسکتا ہے۔
ٹونی عثمان کا کام نہ صرف پاکستانی تاریخ اور ادب کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کر رہا ہے بلکہ پاکستانی اور نارویجین ثقافت کے درمیان ایک تخلیقی پل بھی قائم کر رہا ہے۔ ان کے ڈرامے ذوالفقار علی بھٹو پر مبنی تھیٹر کی کامیابی کے لیے نیک تمنائیں پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ آئندہ بھی ایسی منفرد کہانیاں تخلیق کرتے رہیں گے۔
انٹرویو: محمد زنیر