
ایتھنز میں نسل پرستی کے خلاف سالانہ اجتماعی جشن منقعد کیا گیا جس میں ہر سال کی طرح پاکستان جرنلسٹس کلب یونان نے خصوصی طور پر شرکت کرتے ہوئے یونان میں پاکستانیوں کی نمائندگی کی اور یونان میں پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے علاوہ پاکستانی کھانوں کو متعارف کرایا۔
یونان (ڈیسک رپورٹ) دارالحکومت ایتھنز میں ہر سال کی طرح غیر سرکاری تنظیم تارکینِ وطن سنڈے اسکول (Κυριακάτικο Σχολείο Μεταναστών) کی جانب سے انسدادِ نسل پرستی کے خلاف دو روزہ جشن منایا گیا۔ جس میں بقائے باہمی اور یکجہتی کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے یونان کے تارکینِ وطن اور پناہ گزین تنظمات، انسدادِ نسل پرست اور فسطائیت پسند تحریکیں، کارکنان، یونین اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی کمیونٹیز نے بھرپور حصہ لیتے ہوئے یونان میں یکجہتی کا بہترین پیغام دیا۔
مختلف تنظیمات، کمیونٹیز اور تارکین وطن نے اپنے اپنے ملک کے اسٹال لگائے اور اپنی اپنی ثقافت اور کھانوں کو متعارف کرایا۔ پاکستان جرنلسٹس کلب رجسٹرڈ یونان نے یونان میں پاکستانیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اس دو روزہ جشن میں بھرپور حصہ لیا اور پاکستانی کھانوں کو متعارف کرایا جس میں بریانی اور سموسہ شرکا کی بھرپور توجہ کا مرکز رہا اور یونانیوں سمیت دیگر ممالک کے افراد نے پاکستانی کھانوں کی بہت تعریف کی۔
انسدادِ نسل پرستی کے اس جشن میں فلسطین کمیونٹی نے بھی خصوصی طور پر بھرپور شرکت کی۔ یونان فلسظینی یوتھ نے ثقافتی لباس زیب تن کر کے اپنا روایتی رقص پیش کیا جسے شرکا نے بےحد سراہا اور فضا فلسطین کی آزادی کے نعروں سے گونجنے لگی۔
پاکستان جرنلسٹس کلب رجسٹرڈ یونان کے سابق صدر خالد مغل اور سابق جنرل سیکریٹری جاوید بلوچ نے انسدادِ نسل پرستانہ جشن میں پاکستانیوں کو یونان میں درپیش مسائل کی نشاندہی کی اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیمات سے اِن کے حل کیلئے تحریک کی درخواست کی۔
اس جشن میں بچوں اور خواتین کے علاوہ یونان کے ہر مکتوبِ فکر سے تعلق رکھنے والے انسان نے بھرپور شرکت کی اور مہاجرین کو یونان میں درپیش مسائل، ظلم و جبر و نسل پرستی کے واقعات اور حقوق کی تلفی کے واقعات کی نشاندہی کی گئی۔