اردو ٹریبیون (لاہور ڈیسک)

پنجاب کے مختلف اضلاع میں دریائے چناب، دریائے راوی اور دریائے ستلج میں غیر معمولی سیلابی ریلے داخل ہوچکے ہیں، جس سے کئی اضلاع شدید متاثر ہوئے ہیں۔

جھنگ میں دریائے چناب کے بپھرنے کے باعث حضرت سلطان باہوؒ کے مزار کا ایک داخلی دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مرکزی داخلی راستہ کھلا رکھا گیا ہے جبکہ انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت باقی دروازہ عارضی طور پر بند کیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق جھنگ چند ریلوے ایمبنکمنٹ پر تین مقامات کو دھماکا خیز مواد سے توڑ کر پانی کا رخ موڑ دیا گیا ہے تاکہ جھنگ شہر کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔ جھنگ پل سے گزرنے والے تقریباً 5 لاکھ کیوسک پانی میں سے ایک سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی موڑ دیا گیا ہے۔

چنیوٹ برج پر 8 لاکھ 55 ہزار کیوسک کے بڑے سیلابی ریلے نے صورتحال کو خطرناک بنا دیا ہے۔ ہیڈ تریمو پر پانی کا بہاؤ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔

لاہور میں دریائے راوی کے شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح 1988 کے بعد سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، تاہم بروقت انخلا کے باعث کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا۔ لاہور کے کئی دیہات زیر آب آگئے، جن میں تھیم پارک، مریدوال اور افغان کالونی شامل ہیں۔ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

قصور کے قریب دریائے ستلج میں ساڑھے تین لاکھ کیوسک سے زائد کا پانی داخل ہوچکا ہے جو 1955 کے بعد سب سے بڑا ریلا قرار دیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ نے آر آر اے ون کو توڑنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ قصور شہر کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔

متاثرین کے لیے 694 ریلیف کیمپس اور 265 میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر متاثرہ شہریوں کو خوراک، علاج اور رہائش کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

محکمہ موسمیات نے آئندہ گھنٹوں میں جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جس سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ این ای او سی کے مطابق 3 ستمبر تک بڑا سیلابی ریلا پنجند تک پہنچے گا، جس سے ملتان، بہاولپور اور رحیم یار خان بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا ہے کہ شہری دریا کے کناروں اور نشیبی علاقوں کو فوری طور پر خالی کریں اور انتظامیہ سے تعاون کریں۔ کسی بھی غیر قانونی تعمیر کو خالی کرایا جائے گا تاکہ پانی کے بہاؤ کو روکا نہ جا سکے۔