اردو ٹریبیون (لاہور ڈیسک)

دریائے راوی میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث شاہدرہ اور نواحی علاقوں میں شدید صورتحال پیدا ہوگئی، جہاں پانی گھروں اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں داخل ہوگیا۔ بعض مقامات پر پانی کی سطح تین سے چار فٹ تک جا پہنچی جس سے مکینوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق شاہدرہ میں محفوظ گارڈن، تھیم پارک، شفیق آباد، فرخ آباد، مرید وال، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی اور طلعت پارک بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ کئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے بلاکس بھی پانی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ نے رہائشیوں کو محفوظ مقامات اور ریلیف کیمپوں میں منتقل کرنے کے لیے مساجد سے اعلانات کرائے۔ فرخ آباد اور دیگر علاقوں کے اسکولوں کو بھی ریلیف سینٹرز میں تبدیل کر دیا گیا جہاں کھانے اور دیگر سہولتوں کا انتظام کیا گیا ہے۔

سیلابی پانی نے لاہور کے ساتھ ساتھ نارووال اور نارنگ منڈی کے متعدد دیہات کو بھی متاثر کیا ہے۔ بیکو چک کے قریب راوی میں شگاف پڑنے سے درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا اور کھیت، چراگاہیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا۔ اب تک تقریباً 11 ہزار افراد اور ساڑھے چار ہزار مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔

فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 15 ہزار 550 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جو انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے مترادف ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب سے اب تک 1.45 ملین آبادی متاثر ہوئی ہے، 365 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں جبکہ 4 لاکھ 29 ہزار افراد اور 3 لاکھ مویشی کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ پنجاب میں بارشوں اور سیلابی پانی کے باعث 20 افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ دریا کے بیڈ پر قائم ہونے والی ہاؤسنگ سوسائٹیاں غیر قانونی ہیں اور این او سی جاری کرنے والے حکام کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔