اردو ٹریبیون (لاہور ڈیسک)

سپین کے شہر بونیول (Buñol) میں ہر سال اگست کے آخری بدھ کو منعقد ہونے والا دنیا کا سب سے منفرد اور دلچسپ فیسٹیول “لا ٹوماٹینا (La Tomatina)” 2025 میں بھی لاکھوں سیاحوں اور مقامی افراد کو اپنی جانب کھینچ لایا۔ اس فیسٹیول کو دنیا بھر میں “ٹماٹروں کی جنگ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ روایت تقریباً 75 سال پرانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ فیسٹیول 1945 میں ایک مقامی جھگڑے سے شروع ہوا تھا، جب نوجوانوں نے ایک میلے کے دوران بطور احتجاج ایک دوسرے پر ٹماٹر پھینکنا شروع کر دیا۔ بعدازاں یہ رسم ہر سال ایک جشن کی شکل اختیار کر گئی اور آج یہ اسپین کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔

اس سال فیسٹیول کا آغاز ایک بڑی جھاگ والی اسنانی (foam party) اور موسیقی سے ہوا۔ چند ہی لمحوں میں ہزاروں افراد ایک دوسرے پر پکے ہوئے ٹماٹر پھینکنے لگے۔ اندازہ ہے کہ اس سال تقریباً 120 ٹن سے زائد ٹماٹر اس جنگ میں استعمال کیے گئے۔ شرکاء کے لیے حفاظتی ہدایات بھی جاری کی گئیں جن میں بتایا گیا کہ ٹماٹر کو پھینکنے سے پہلے مسل لینا چاہیے تاکہ چوٹ نہ لگے۔

لاکھوں غیر ملکی سیاح ہر سال اس منفرد ایونٹ میں شریک ہونے کے لیے سپین کا رخ کرتے ہیں۔ اس سال بھی دنیا بھر سے افراد نے شرکت کی اور شہر کی گلیاں سرخ رنگ میں ڈوب گئیں۔

یہ فیسٹیول سپین کے مقامی ہوٹل، ریستوران اور ٹورزم انڈسٹری کے لیے بھی ایک بڑا ذریعہ آمدن ہے۔ صرف بونیول شہر ہی نہیں بلکہ اردگرد کے علاقے بھی اس ہفتے بھر کے جشن سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

“لا ٹوماٹینا 2025” نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ سپین نہ صرف اپنی خوبصورتی اور ثقافت کے لیے مشہور ہے بلکہ اپنی روایات اور منفرد تقریبات سے دنیا بھر کے دل جیتنے کا فن بھی جانتا ہے۔