اردو ٹریبیون (لاہور ڈیسک)
ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اسرائیلی بحری جہازوں کے لیے ترک بندرگاہوں اور اسرائیلی طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کر دی گئی ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے پارلیمنٹ کے غیرمعمولی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات مکمل طور پر منقطع کر دیے گئے ہیں۔ ترک بحری جہاز اب اسرائیلی بندرگاہوں پر نہیں جا سکیں گے جبکہ اسرائیلی بحری جہازوں کو ترک بندرگاہوں پر آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی طیاروں کے لیے بھی ترکیہ کی فضائی حدود بند کر دی گئی ہے۔
ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں جنگی جرائم اور نسل کشی کے مظالم ڈھائے ہیں، جو انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو برسوں سے اسرائیل دنیا کے سامنے بنیادی انسانی اقدار کو پامال کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی نسل کشی کر رہا ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطینی عوام کی مزاحمت تاریخ کا دھارا بدل دے گی اور یہ دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے ایک مثال ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں کی غزہ سے بے دخلی کے کسی بھی منصوبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چاہے یہ منصوبہ کسی بھی قوت کی طرف سے پیش کیا جائے، ترکیہ اسے قبول نہیں کرے گا۔
ہاکان فیدان نے مزید کہا کہ اسرائیل کو امریکا کی لامحدود حمایت حاصل ہے اور اسی حمایت کے تحت وہ دو ریاستی حل کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔