اردو ٹریبیون (لاہور ڈیسک)
بلغاریہ کی ریلا پہاڑی چوٹیوں پر واقع “کڈنی لیک” کے کنارے، سیکڑوں افراد نے سفید لباس اور ننگے پاؤں سرد موسم اور گھنے دھند کے باوجود “روحانی سالِ نو” کا جشن منایا۔ یہ سب “یونیورسل وائٹ برادرہوڈ” کے پیروکار تھے، جو ہر سال 19 اگست کو یہاں جمع ہو کر ایک مخصوص رقص نما عبادت، “پین ایوریتھمی” ادا کرتے ہیں۔ یہ روحانی تحریک 1920 کی دہائی میں بلغاریہ کے استاد پیٹر ڈینوف نے شروع کی تھی۔ ابتدا میں انہوں نے اسے “چین آف ڈیوائن لو” کا نام دیا، مگر بعد میں اسے “دی وائٹ برادرہوڈ” کہا گیا۔ ان کے مطابق یہ معاشرہ برابری، بھائی چارے، آزادی اور باہمی قبولیت کا پیغام دیتا ہے۔
سوتوسلاو کوستوف، ایک موسیقار، نے بتایا:
“اس بھائی چارے کا مقصد انسانوں میں محبت کو ظاہر کرنا ہے، جہاں سب برابر ہوں اور ایک دوسرے کی آزادی کا احترام کریں۔”
ٹیمینوگا پیٹکووا-سٹائکووا، ایک استاد، کا کہنا تھا:
“کچھ لوگ احتجاج کرتے ہیں، کچھ دوسرے طریقوں سے اپنے شہری حقوق ظاہر کرتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں یہ میرا شہری فریضہ ہے کہ دنیا کو اپنی توانائی دوں تاکہ یہ مزید خوبصورت اور بہتر ہو۔”
پاسکل، 70 سالہ فرانسیسی خاتون اور سابق ایئر ہوسٹس، 2015 سے ہر سال اس جشن میں شریک ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا:
“یہ میرے لیے نیا جنم لینے جیسا ہے۔ ایک ماہ یہاں رہنے سے مجھے باقی گیارہ ماہ کے لیے طاقت ملتی ہے۔ شاید زلزلہ مجھے روک سکے، لیکن پھر بھی یقینی نہیں کہ رک جاؤں۔”
ڈاکٹر روزن باکالوف، بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے ایک ڈینٹسٹ نے کہا:
“اس تحریک کے بارے میں دنیا کی ہر زبان میں معلومات دستیاب ہے۔ لوگ اسپین، اٹلی، روس، جرمنی اور فرانس سمیت دنیا بھر سے یہاں آتے ہیں۔ ایک بار جو اس کا حصہ بن جائے، وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔”
یہ سماج عیسائیت کے ساتھ ہندوستانی روحانیت کے عناصر کو یکجا کرتا ہے اور پیروکاروں کے مطابق اس کا مقصد کائناتی توانائی سے جڑنا ہے۔ ان کے بقول “دی وائٹ برادرہوڈ” کا نام نسل یا رنگت سے نہیں بلکہ روشنی اور روح کی پاکیزگی سے منسوب ہے، اور یہ پیغام دیتا ہے کہ تمام انسان ہم آہنگی کے ساتھ جی سکتے ہیں۔