اردو ٹریبیون (لاہور ڈیسک)

الجزائر کے شہر غردایہ میں شادی بیاہ اور خاندانی اجتماعات کو منظم کرنے کے لیے انتظامیہ نے ایک منفرد اور متنازعہ فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت شام 7 بجے کے بعد تقریبات منعقد کرنے پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

نشریاتی ادارے العربیہ کے مطابق بلدیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی خاندان شام سات بجے کے بعد شادی یا خاندانی جشن مناتا ہے تو تقریب میں شریک ہر شخص کو 800 دینار (تقریباً 3 امریکی ڈالر) ادا کرنا ہوں گے، جبکہ اگر تقریب رات گئے تک جاری رہی تو جرمانہ بڑھ کر 1500 دینار (6 امریکی ڈالر) تک ہو جائے گا۔ یہ قانون مئی 2024 سے باضابطہ طور پر نافذ کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے اسے غیر منطقی اور عوامی خوشیوں پر ناجائز قدغن قرار دیا ہے۔ ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ:
“شادی کی تقریب پر جرمانہ لگانے سے بلدیہ کو کیا نقصان ہے؟”
جبکہ ایک اور شہری نے کہا: “یہ اقدام عوام کو اپنی خوشیوں سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔”

انتظامیہ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد عوام پر بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ تقریبات کو منظم اور شور و غل سے محفوظ رکھنا ہے۔ بلدیہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ جرمانہ اتنا معمولی ہے کہ شادی کے دیگر بھاری اخراجات کے مقابلے میں اس کا بوجھ نہ ہونے کے برابر ہے۔

سماجی ماہر عبدالحفیظ صندوقی کا کہنا ہے کہ الجزائر میں شادی کو ایک مقدس رسم سمجھا جاتا ہے اور لوگ مالی مشکلات کے باوجود شادی دھوم دھام سے کرتے ہیں، چاہے قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے۔ ان کے مطابق یہ نیا قانون خاندانوں پر اضافی مالی اور انتظامی دباؤ ڈالے گا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ شادی کی تقریبات عموماً پہلے ہی باقاعدہ اجازت ناموں اور مخصوص ہالز میں منعقد کی جاتی ہیں، اس لیے ایسے اضافی جرمانے صرف خاندانوں کے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔