اردو ٹریبیون (لاہور ڈیسک)
اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں متنازعہ بستی منصوبے کی منظوری کے بعد عالمی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ برطانیہ اور فرانس سمیت 21 ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یہ منصوبہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور “ناقابلِ قبول” ہے کیونکہ اس سے دو ریاستی حل کا امکان تقریباً ختم ہو جائے گا۔
منصوبے کی تفصیلات کے مطابق اسرائیل نے مشرقی یروشلم کے قریب E1 (ای ون) علاقے میں 3,400 رہائشی یونٹس کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔ یہ بستی منصوبہ مغربی کنارے کے شمال اور جنوب کو ایک دوسرے سے کاٹ دے گا، جس سے ایک مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ناممکن ہو جائے گا۔ منصوبے کا رقبہ تقریباً 12 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔
برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا، جاپان، آسٹریلیا اور دیگر 18 یورپی ممالک نے اسرائیلی فیصلے کو “انتہائی خطرناک” قرار دیا۔ برطانیہ نے لندن میں اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ “ہم اس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیل اسے فوری طور پر منسوخ کرے تاکہ خطے میں امن کے امکانات کو مزید نقصان نہ پہنچے۔”
معالیہ ادومیم بستی کے میئر گائی یفراح نے منصوبے کی منظوری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ طویل عرصے سے اسرائیلی تعمیرات کے لیے مختص ہے اور اب بالآخر اس کی عملی شکل سامنے آئے گی۔
فلسطینی اتھارٹی نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس کو “علاقائی جیلوں” میں بدل دے گا، اور یہ منصوبہ فلسطینی عوام کے حقوق، ریاستی وجود اور آزادی کو ختم کرنے کی منظم کوشش ہے۔ فلسطینی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں اور اسے منصوبے کی عملدرآمد سے روکا جائے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو گیا تو اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں کی تقسیم مزید پختہ ہو جائے گی، فلسطینی ریاست کا قیام تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تناؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔